اک کربِ مسلسل ازقلم ہاجرہ عمران خان
کبھی ہوتا ہے نا کہ بیتے لمحے اور گزری یادیں سوچ کے پردے پر بسیرا کر لیتی ہیں؟
جی چاہتا ہے ٹھہر کر سوچا جائے زندگی کدھر چلی گئی؟
وقت کی سوئیاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے نبض کی طرح چلتی جاتی ہیں۔
عمر کی ساعتوں کو گھڑی کی سوئیوں کی طرح روکا نہیں جا سکتا۔ عہدِ رفتہ کیسے سماعتوں میں آکر ٹھہر سا جاتا ہے۔
اس وقت جب زندگی کو چھو کر دیکھا تھا۔ہوا کے پروں پر سوار ہو کر آسمان چھونے کی خواہش من میں پیدا ہوتی تھی۔ دل پازیب کی چھن چھن جیسا دھڑکتا تھا۔ آنکھوں کی پتلیاں خواب،خواہش،رنگوں اور جگنوؤں کے بوجھ سے لدی رہتی تھیں۔
نارمل سی تعلیم کے بعد مجھے بھی لگتا تھا کہ جیسے خواہش کے سب جگنو مٹھی میں بند کر لینے کا ہنر مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ سج سنور کر بدیسی لباس میں بڑے سے شاپنگ مال کے میک اپ اور شیمپو کے ڈسپلے کے سامنے کھڑے ہو کر ڈیوٹی کے آٹھ گھنٹے مسکرا مسکرا کر گاہکوں کو متوجہ کرتے ہوئے میری روح نےاتنے زخم نہیں کھائے جتنے اسکی ایک نفرت بھری نظر نے میری روح کے شفاف بدن پر شگاف بنائے۔ شاپنگ مال میں وہ فائنانس آفیسر تھا۔سویپر،سیلز بوائز سے لیکر مینجر تک سب میری ایک نظر کے خواہشمند ہوتے مگر اسکی سرد نگاہ اور اس سے جھانکتا بدگماں سا احساس مجھے دھیرے دھیرے کرب میں مبتلا کرتا چلا گیا اور پھر ایک روز میری بیقراری ،محبت کے قدموں میں ڈھیر ہوگئ۔ میں نے اس کا راستہ روکا۔ جیسے وقت سانس لیا بھول گیا۔ کائنات کا ایک ایک وجود سماعت بن گیا۔میرے ماتھے پر پسینہ عرقِ شرمندگی کی صورت نمودار ہوا۔ " کیوں ؟" میں نے بات کا آغاز کیوں سے کیا۔ " کیوں ، تم مجھے نظر انداز کرتے ہو؟ میرے چہرے پر ایک نظر ڈالنا بھی تمہیں گوارا نہیں؟ تمہاری آنکھوں سے جھلکتا استہزاء میرے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔میرے دل کی دھڑکن ڈوبنے لگتی ہے۔روح پر لگے زخم ادھڑنے لگتے ہیں۔
میرے سامنے اس کا اونچا وجود ساکت سا تھما کھڑا تھا۔ نظریں فرش پر جمی تھیں اور کانوں کی رنگت سرخ ہوکر دہکنے لگی۔اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور میرے چہرے پر ایسے نگاہ دوڑائی جیسے مجھ سے ارزاں چیز اس دنیا میں کوئی نہیں۔ اس کی آنکھ کے شراروں نے مجھے جلا کر بھسم کر دیا۔" مجھ سے سوال پوچھنے سے پہلے ذرا آئینے میں جا کر اپنی صورت دیکھ لو، تمہیں تمہارا جواب مل جائے گا" وہ کہہ کر رکا نہیں۔ اس کے جانے کے کتنی دیر بعد تک میں اس کی پرچھائی کا ہاتھ تھامے خود کو لڑکھڑا کر گرنے سے بچانے کی کوشش کرتی رہی۔یہ وہی تھا۔ کالج میں میرے آگے پیچھے پھرنے والا۔ میری کلاس کے باہر کھڑا ہو کر میرا انتظار کرنے والا۔ اسے کیا ہوا۔ محبت لٹانے والا آج عزت اچھال کر چلا گیا۔ جواب میرے چہرے پر تھا۔ میں خود کو گھسیٹ کر سٹاف واش روم لے گئی۔ آئینے میں ، میں نہیں تھی۔ چہرے پر غازہ تھوپے، سنہرے بال کاندھے پر بکھرائے، ٹی شرٹ سے جھانکتا وجود اور سفید ٹائٹس . . . . ٹھیک ہی تو کہتا ہے وہ۔۔۔۔۔۔آئینہ ہی میرے سوالوں کا جواب ہے۔ یہ وہ لڑکی نہیں تھی جس کے انتظار میں اس نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات قربان کیے تھے۔ سادہ سے کرتے شلوار میں سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے ہوئے . . . ڈھکی چھپی مشرقی عورت . . . .
اس روز اسکی حقارت اور میری توہین زمین کی وسعتوں اور آسمان کی رفعتوں سے بہت بلند تھی۔وہ چلا گیا۔ دل کو یقین نہیں آیا۔ذلت کے گڑھے کی گہرائی کوئی میرے سلگتے جسم سے پوچھے کہ جس میں گرنے کے بعد آج تک آخری کنارہ نہیں ملا۔
یہ کیسی اذیت ہے؟ جس میں مانگے سے پناہ نہیں ملتی اور منانے سے روٹھی ہوئی روح نہیں مانتی . . . . . "شو کیس میں سجی ہوئی عورت دل میں بسانے کے لائق نہیں ہوتی اور نہ ہی گھر میں بسانے کے قابل ،عورت تقدس کے لبادہ میں لپٹی ،ڈھکی چھپی ہی اچھی لگتی ہے" اس کے الفاظ آج تک مجھے ڈس رہے ہیں۔میں خود کو فنا کرکے بھی اسکے قابل نہیں بنا سکتی تھی۔
آج یہ سیاہ چادر میرا حجاب ہے۔ میری نگاہیں اپنے دل کا خون رنگ شجر لیے آسمان پر اپنے رب کے حضور شکوہ کناں ہیں۔ فکرِ معاش مجھے سونپا ہی نہیں گیا پھر کیوں مجھے بے جان گڑیا کی طرح سج سنور کر ،خود نمائی اوڑھ کر نامحرموں کی تسکین کاذریعہ بنادیا گیا، بے جان چیزوں کے ساتھ مجھے بھی ڈسپلے میں سجا کر پیش کیا گیا۔ میری کالی چادر میں آج تلک ہجر کی خوشبو بسی ہے۔ میری آنکھوں میں یاس کا رنگ بسیرا کیے ہوئے ہے ۔
مگر آج میں اپنی روح پورے ایمان سے اپنے پروردگار کو سونپ رہی ہوں کہ محبت لا حاصل سہی مگر عشقِ حقیقی مجھے خود میں سمو رہا ہے ۔ دنیا دھتکار بھی دے ،میرے رب کی پناہ مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
ختم شدہ
Comments
Post a Comment